موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، ایشیا میں بڑھتے خطرات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی

 

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات

چونکہ دنیا بھر میں ماحول ایک منسلک فریم ورک ہے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہر جگہ محسوس کیے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں موسمیاتی تبدیلی کے انسانی صحت پر اثرات، غذائی اجناس کی کی پیداوار میں کمی، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، وبائی امراض کا پھیلاؤ، سیلاب، گرمی سردی کی شدت میں اضافہ ہونا، موسم کے دورانیوں کا طویل ہونا اور تغیر نما ہوتے جانا۔ برف کا پگھلنا، خشک سالی، وغیرہ ہے۔

 

 

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی جون 2025ء میں شائع ہونے والی اسٹیٹ آف دی کلائمیٹ ان ایشیا 2024ء کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایشیائی خطہ عالمی اوسط سے تقریباً دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے موسم زیادہ شدید ہو رہا ہے اور زندگیوں، ماحولیاتی نظاموں اور معیشتوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

 

اس رپورٹ کے مطابق ایشیا میں 2024ء کا سال وسیع پیمانے پر اور طویل گرمی کی لہروں کے ساتھ گرم ترین یا ریکارڈ پر دوسرا گرم ترین سال رہا۔ 

 

  ریکارڈ سطح سمندر کے درجہ حرارت اور سمندری ہیٹ ویوز نے وسیع علاقوں کو متاثر کیا، جبکہ بحرالکاہل اور بحر ہند میں سطح سمندر میں اضافہ عالمی اوسط سے تجاوز کر گیا، جس سے نشیبی ساحلی علاقوں کے لیے خطرات بڑھ گئے۔

 

 وسطی ہمالیہ اور تیان شان کے گلیشیئرز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس سے بڑھتے ہوئے خطرات جیسے کہ برفانی جھیل کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، اور طویل مدتی پانی کی حفاظت کو خطرات لاحق ہیں۔  شدید بارشوں، خشک سالی اور تباہ کن طوفانوں نے بھی بڑے پیمانے پر نقصان اور جانی نقصان پہنچایا۔

 

موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب، اثرات اور ان سے لاحق سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف سطحوں پر مربوط کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔  اشد ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں خصوصاً جامعات میں اس سلسلے میں تحقیقی مراکز اور جدید تجربہ گاہیں قائم کی جائیں اور ماہر افرادی قوت پیدا کی جائے۔ تحقیق کے چند اہم توجہ طلب نکات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ دار مقامی انسانی و قدرتی عوامل کو جانچنا، فضائی آلودگی کی اہم وجوہات جاننا اور اس کی نقل وحرکت کا بروقت پتا لگانا، موسمیاتی تبدیلی کے انسانی صحت، مزاج اور رہن سہن پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مشاہدہ کرنا، بیماریوں کے پھیلاؤ، زراعت اور اجناس کی پیداوار، زمین اور پانی کے حساس ماحولیاتی نظام پر اثرات کا جائزہ لینا اور ان اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کے حل تلاش کرنا اور ان کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی وضع کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

حکومتی سطح پر ماحولیات دوست اقدامات میں ماحولیاتی قوانین پر عمل کرانا، صنعتوں سے زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنا، جنگلات کے کٹاؤ کو روکنا اور نئے جنگلات اگانا، شہری علاقوں میں کوڑا کرکٹ کا بہتر نظام بنانا، فضلہ جات ٹھکانے لگانے والی جگہوں کا مناسب انتخاب کرنا، گرین انرجی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا وغیرہ شامل ہیں 

 

 

 

انفرادی و اجتماعی طور پر ہمیں چاہیے کہ اپنی بڑھتی ہوئی خواہشات کو محدود رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کریں اور ضرورت کے تحت ان چیزیں کو اپنے استعمال میں لائیں۔ پلاسٹک کے لفافوں اور اس سے بنی دوسری اشیا کے استعمال کو کم سے کم کرتے جائیں، پانی کو ضائع ہونے سے روکیں اور اگر ممکن ہو تو استعمال شدہ صاف پانی کو ''ری سائیکل‘‘ کریں، قریبی جگہوں پر جانے کے لیے اپنی ٹانگوں یا سائیکل کا استعمال کریں، گھروں میں سولر انرجی سسٹم لگائیں اور بجلی کے استعمال کو کم سے کم سطح پر رکھیں۔ گندگی نہ پھیلائیں، گاڑی، کپڑے اور گھر وغیرہ دھوتے وقت پانی کا ضیاع نہ ہونے دیں اور ناقابلِ تلف چیزوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔

M

Muhammad Ayoub

1 Articles Joined Jan 2026
View Profile

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

Related Articles
About Author

میں ایک مصروف مصنف اور محقق ہوں جو تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر لکھتا ہوں۔ میرا مقصد قارئین کے لیے معلوماتی اور دلچسپ مواد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ علم کے ساتھ تفریح بھی حاصل کریں۔ تاریخی تحقیق، تجزیاتی مضمون نگاری اور بلاگنگ میں میری مہارت قارئین کو منفرد بصیرت فراہم کرتی ہے۔