اقبال کا شاہین: خودی اور آزادی اور بلند پروازی کی علامت

”اقبال کا شاہین“

 

 

شاہین کو عالمی سطح پر تو اہمیت حاصل ہے ہی، لیکن اردو ادب میں اس کی عظمت سب سے زیادہ علامہ محمد اقبال نے اجاگر کی۔

 

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

 

نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے

 

شکار مردہ سزاوار شاہباز نہیں

 

 

 

اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا لباس اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسویں صدی کا آغاز تھا کہ اقبال کی پہلی نظم” ہمالہ“ منظر عا م پر آئی ۔ اس کے بعد پانچ چھ بر س تک متواتر ان کی ایسی نظمیں ملک کے سامنے آتی رہیں ، جو ان کی حب وطن، ذوق حسن اور ہم آہنگی فطرت کی آئینہ دار تھیں۔ اقبال کے شاعری میں شہباز کی پہلی نمود ہمیں اس کے دور اوّل کی ایک نظم ” مرغ ہوا“ میں ملتی ہے 

 

 

 

اک مرغ سِرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے

 

پردار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پردار

 

گر تو ہے ہوا گےر تو ہوں میں بھی ہوا گیر

 

آزاداگر تو ہے ، نہیں میں بھی گرفتار

 


 

 شاہین ِ اقبال کی سیرت کی ایک جھلک ”بال جبریل“ کی مشہور نظم ” شاہین “ میں جو اقبال کے دور خرد پروری کی یادگار ہے ، یوں نظر آتی ہے۔

 

 

 

کیا میں نے اس خاکداں سے کنارا

 

جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ

 

بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو

 

ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ

 

 

 

اقبال اور شاہین:۔

 

 

اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کو ایک خاص علامت کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور ان کا محبوب پرندہ ہے۔ اقبال کے ہاں اس کی وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے لئے بلبل اور شیلے کے لئے سکائی لارک کی تھی، بلکہ ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سے زیادہ بلند ہے کیونکہ شاہین میں بعض ایسی صفات جمع ہوگئی ہیں۔ جو اقبال کی بنیادی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں یوں تو اقبال کے کلام میں جگنو ، پروانہ ، طاوس ، بلبل ، کبوتر ، ہرن وغیر ہ کا ذکرآیا ہے۔ لیکن ان سب پر شاہین کو وہ ترجیح دیتے ہیں۔ اقبال نے تشبیہات و استعارات میں بلبل و قمری کے بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دی ہے۔ڈاکٹر یوسف خان لکھتے ہیں کہ،

 

” اقبال کے وجدان اور جذبات شعری کو جو چیز سب سے زیادہ متحرک کرتی ہے۔ وہ مظہر ”قوت“ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بلبل اور قمری کی تشبیہوں کی بجائے باز اور شاہین کو ترجیح دیتا ہے۔“

 

اقبال کو جمال سے زیادہ جلال پسند ہے اقبال کو ایسے پرندوں سے کوئی دلچسپی نہیں جن کی اہمیت صرف جمالیاتی ہے یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہیں،

 

 

 

کر بلبل و طاوس کی تقلید سے توبہ

 

بلبل فقط آواز ہے، طاوس فقط رنگ

 

 

 

 اُردو کے کسی شاعر نے شاہین کو اس پہلو سے نہیں دیکھا” بال جبریل“ کی نظم ”شاہین“میں اقبال نے شاہین کو یوں پیش کیا ہے۔

 

خیابانیوں سے ، ہے پرہیز لازم

 

ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ

 

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں

 

کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

 

جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا

 

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

 

یہ پورب ، یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا

 

میرا نےلگوں آسماں بے کرانہ

 

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں

 

کہ شاہیں بناتا نہیں آشیا نہ؟

 


 

اقبال کے شاہین کی صفات:۔

 

 

اقبال نے شاہین کی جن خوبیوں کا خود ذکر کیا ہے اور جن کے باعث وہ ان کا پسندیدہ جانور بنا ہے ان کا کلام ِ اقبال کی روشنی میں ذرا تفصیلی جائزہ لے لیا جائے تو اقبال کے تصورِ شاہین کو سمجھنے میں مزید مدد مل جاتی ہے وہ صفات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔

 

 

 

غیرت و خود داری:۔

 

 

غیرت و خوداری درویش کی سب سے بڑی صفت ہے اور یہی حال شاہین کا بھی ہے اس لئے وہ مرغ سرا کے ساتھ دانہ نہیں چگتا جو دوسروں کے احسان کے باعث ملتا ہے اور نہ گرگس کی طرح مردہ شکار کھاتا ہے درویش اور فلسفی میں یہی فرق ہے کہ گدھ اونچا تو اُڑ سکتا ہے لیکن شکار ِزندہ یعنی حقیقت اس کے نصیب میں نہیں ہوتی۔

 

 

 

بلند بال تھا لیکن نہ جسور و غیور

 

حکیم ِ سر ِمحبت سے بے نصیب رہا

 

 

 

پھرا فضائوں میں گرگس اگر چہ شاہیں وار

 

شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا

 

 

 

فقراور استغنا:۔

 

 

فقر بھی اقبال کے نزدیک مرد درویش کی بڑی خصوصیت ہے جس طرح شاہین چکور کی غلامی نہیں کر سکتا اُسی طرح درویش شاہوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اقبال کہتے ہیں کہ شاہین کو چکور و گرگس کی صحبت سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ زاغ و گرگس کی صحبت میں شاہین کی زندہ شکار حاصل کرنے کی صلاحیت مردہ ہو جائے گی اور وہ انہی کی طرح لالچی بن کر فقر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اس طرح شاہین کی صفات پیداکرکے فقیر بھی کسی چڑیا ، کبوتر یا فاختہ کا شکار نہیں کھیلے گا بلکہ وہ فطرت و کائنات کی تسخیرکرے گا یا باطل کی قوتوں کا مقابلہ کرے گا۔

 

اس فقر سے آدمی میں پیدا

 

اللہ کی شان ِ بے نیازی

 

کنجشک و حمام کے لئے موت

 

ہے اس کا مقام شہبازی

 

 

 

آشیانہ نہ بنانا :۔

 

 

اقبال کو شاہین کی یہ ادا بھی پسند ہے کہ وہ آشیانہ نہیں بناتا ، آشیانہ بنانا اس کے فقر کی تذلیل ہے۔

 

 

 

گذر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ بیاباں میں

 

کہ شاہیں کے لئے ذلت ہے کارِ آشیاں بندی

 

 

 

شاہین کی طرح درویش بھی سرمایہ جمع کرنے کو درویشی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اقبال شاہین کو قصر سلطانی کی گنبد پر نہیں بلکہ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے لئے کہتے ہیں ان کے خیال میں جب نوجوانوں میں عقابی روح پیدا ہوتی ہے تو انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔

 

 

 

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

 

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

 

نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کی گنبد پر

 

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

 

 

 

بلند پروازی:۔

 

 

اقبال کے شاہین کی ایک خوبی اُس کی بلند پروازی ہے اقبال کو شاہین کی بلند پروازی اس لئے پسند ہے کہ یہ اس کے عزائم کو نئے نئے امکانات سے روشناس کرتی ہے 

 

 

 

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر

 

چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

 

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

 

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

 

 

 

خلوت پسندی:۔

 

 

اقبال کا شاہین خلوت پسند ہے وہ کبوتر ، چکور یا زاغ کی صحبت سے پرہیز کرتا ہے۔ اقبال کو ایسا شاہین پسند نہیں جو گرگسوں میں پلا بڑھا ہو کیونکہ وہ رسم شاہبازی سے بیگانہ ہو جاتا ہے اقبال فرماتے ہیں کہ گرگس اور شاہین ایک فضا میں پرواز کرنے کے باوجود ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

 

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلندی پرواز

 

خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت ِ زاغ

 

 

 

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پلا ہو گرگسوں میں

 

اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ رسم ِ شاہبازی

 

 

 

پرواز ہے دونوں کا اسی ایک فضا میں

 

گرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

 

 

 

تیز نگاہی:۔

 

 

اقبال کو شاہین کی تیز نگاہی اور دوربینی بھی پسند ہے یہی خصوصیت اس کے خیال میں مردِ مومن میں بھی ہونی چاہیے شاہین کی پرواز اس کی نگاہوں کو وسعت بخشتی ہے اقبال کہتا ہے کہ دوسرے پرندوں کو بھلا ان مقامات کا کیا پتہ جو فضائے نیلگوں کے پیچ و خم میں چھپے ہوئے ہیں انہیں صرف شہباز کی تیز نگاہی دیکھ سکتی ہے۔

 

 

 

لیکن اے شہباز ، یہ مرغانِ صحرا کے اچھوت

 

ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر

 

ان کو کیا معلوم اس طائر کے احوال و مقام

 

روح ہے جس کی دم پرواز سرتاپا نظر

 

 

 

سخت کوشی:۔

 

 

اقبال جدوجہد او ر سخت کوشی کے مبلغ ہیں یہ صفت بھی شاہین میں ملتی ہے اقبال مسلم نوجوانوں میں شاہین کی یہ صفات پیدا کرکے انہیں مجسمہ عمل و حرکت بنانا چاہتے ہیں یہ سبق اقبال نے ایک بوڑھے عقاب کی زبانی اپنے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے دیا کہ سخت کوشی اور محنت کی بدولت زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے

 

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام

 

سخت کوشی سے ہے تلخ ِ زندگانی انگبیں

 

 

 

سخت کوشی دراصل لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ ہے۔

 

 

 

جھپٹنا پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا

 

لہو گر م رکھنے کا ہے اک بہانہ

 

 

 

چیونٹی اور عقاب کے عنوان سے اقبال نے دو شعر لکھے ہیں ان میں چیونٹی عقاب سے پوچھتی ہے۔

 

 

 

میں پائمال و خوار و پریشاں و دردمند

 

تیرا مقام کیوں ہے ستاروں سے بھی بلند

 

 

 

عقاب جواب دیتا ہے۔

 

 

 

تورزق اپنا ڈھونڈتی ہے خاک ِ راہ میں

 

میں نہ سہپر کو نہیں لاتا نگاہ میں

 


 

قوت اور توانائی:۔

 

 

اقبال کو شاہین اسی لئے پسند ہے کہ وہ طاقتور ہے قوت اور توانائی کے تمام مظاہر اقبال کو بہت مرغو ب ہیں ۔ اقبال کو طائوس ، قمری اور بلبل اسی لئے پسند نہیں کہ محض جمال ِ بے قوت کی علامت ہے اس طرح تیتر اور کبوتر جیسے پرندے محض اپنی کمزوری کی وجہ سے شکار ہو جاتے ہیں ۔اس بات کو اقبال نے اپنی ایک نظم میں بڑی خوبصورتی سے واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ،

 

ابو لعلاءمعری کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کبھی گوشت نہیں کھاتا تھا۔ ایک دوست نے ترغیب دینے کے لئے ایک بھُنا ہوا تیتر اسے بھیجا، بجائے اس کے کہ معری اس لذیز خوان کو دیکھ کر تیتر کی تعریف کرتا، اس نے اپنا فلسفہ چھانٹنا شروع کر دیا۔ تیتر سے مخاطب کرکے کہا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو گرفتار ہو کر اس حالت کو کیوں پہنچا اور وہ کون سا گناہ ہے جس کی سزا تجھے موت کی شکل میں ملی ہے؟ سن!

 

 

 

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

 

دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

 

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے

 

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

 

 

 

آزادی:۔

 

 

اقبال کو حریت اور آزادی کی قدر بہت پسند ہے یہ قدر بھی شاہین کی ذات میں انہیں نظر آتی ہے ۔ اقبال کا شاہین میر و سلطاں کا پالا ہوا باز ہر گز نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے آزادی ضروری ہے۔ 

 

 

 

تجسّس:۔

 

 

اقبال کے نزدیک آزادی کے عالم میں ہی شاہین کے لئے تجسس ممکن ہے ورنہ غلامانہ ذہنیت تو اسے بزدل اور کمزور بنا دیتی ہے

Muhammad Ayoub

Muhammad Ayoub

3 Articles Joined Jan 2026

میں ایک مصنف اور محقق ہوں جو تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر لکھتا ہوں۔ میرا مقصد قارئین کے لیے معلوماتی اور دلچسپ مواد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ علم کے ساتھ تفریح بھی حاصل کریں۔ تاریخی تحقیق، تجزیات... Read more

Enjoyed this article? Stay informed by joining our newsletter!

Comments

You must be logged in to post a comment.

Related Articles
About Writer

میں ایک مصنف اور محقق ہوں جو تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر لکھتا ہوں۔ میرا مقصد قارئین کے لیے معلوماتی اور دلچسپ مواد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ علم کے ساتھ تفریح بھی حاصل کریں۔ تاریخی تحقیق، تجزیات... Read more

Join Our Newsletter

Get instant updates! Join our WhatsApp Channel for breaking news and exclusive content.

Subscribe Now

Free updates - No spam