Article.Pk - Write, Earn, and Be Heard

Zid-e-Ishq: Choti Don Aur Khamosh Mohabbat

Ek masoom bachi ki zid, ek sanjida single young father aur ek chulbuli larki ki dastan. Janiye kaise Daniya ne apni shararton se Hamdan ki dunya aur uski beti Minha...

MNMaha naeem31 October 2026
  • 331views
  • 4paid views
  • 1likes
Zid-e-Ishq: Choti Don Aur Khamosh Mohabbat

منہا کی زر

لاہور کی ایک مصروف اور خوبصورت سڑک پر اس وقت عجیب ہی منظر تھا۔ ایک چھوٹی سی، معصوم اور بے حد ضدی بچی سڑک کے کنارے بیٹھی زور زور سے زمین پر پاؤں مار رہی تھی۔ پاؤں کیا مار رہی تھی، وہ تو پوری سڑک سر پر اٹھائے ہوئے تھی۔ اس کے رونے کی آواز دور دور تک جا رہی تھی اور اس کی ضد ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

یہ منہا تھی، جو اپنے بابا کی جان تھی، مگر جب ضد پر آتی تو سب کے چھکے چھڑا دیتی۔ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا شخص کوئی عام انسان نہیں تھا، وہ حمدان تھا۔ ایک سنجیدہ، باوقار اور بزنس کی دنیا کا جانا مانا نام۔ حمدان ایک سنگل ینگ فادر تھا، جس کی پوری دنیا اس کی اس چھوٹی سی بیٹی کے گرد گھومتی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتا تھا، مگر آج منہا کی ضد کچھ ایسی تھی جسے پورا کرنا حمدان کے بس میں نہیں تھا۔

"مجھے چاہیے، چاہیے، چاہیے!" منہا نے سڑک پر بیٹھے بیٹھے زور سے پیر مارے اور روتے ہوئے چلائی۔

حمدان نے ایک لمبی اور گہری سانس بھری۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنا سر پکڑ لے، کیونکہ اس کی بیٹی کی ضد ہی کچھ ایسی تھی۔ وہ یہ ضد کیسے پوری کرتا؟ اصل میں ہوا یہ تھا کہ حمدان اور منہا باہر گھومنے آئے تھے۔ وہاں منہا نے ایک دوسری چھوٹی بچی کو دیکھا جو اپنی ماما کی گود میں بیٹھی لاڈ کر رہی تھی اور اس کی ماما اسے چوم رہی تھی۔ بس وہی منظر دیکھ کر منہا کے معصوم دل میں بھی یہ خواہش جاگ اٹھی کہ اسے بھی ایک پیاری سی ماما چاہیے۔ اور وہ بھی ابھی کے ابھی!

"مجھے ماما لا کر دوووو! ابھی چاہیے، ابھی۔۔۔ آننننن!" وہ زور و شور سے ٹانگیں مارتی جا رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری تھی۔

حمدان نے تڑپ کر اسے دیکھا۔ اس کا اپنا دل اندر سے کٹ رہا تھا، مگر وہ مجبور تھا۔ وہ اس کے پاس مزید جھک گیا اور پیار سے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے بولا، "بابا کہاں سے لائیں ماما؟ منہا بابا کو تنگ کیوں کر رہی ہے؟" اس کی آواز میں بے پناہ محبت اور تھوڑی سی بے بسی تھی۔

مگر منہا پر تو جیسے دھن سوار تھی۔ وہ اپنے بابا کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔ "منہا کو ماما چاہیے، چاہیے! آننننن۔۔۔" وہ ابھی بھی بھرپور طریقے سے رو رہی تھی اور اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا۔

حمدان کی سیکیورٹی کے گارڈز تھوڑے فاصلے پر الرٹ کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں مختلف قسم کے مہنگے کھلونے اور منہا کی پسندیدہ چاکلیٹس تھیں۔ وہ سب اپنے باس کی بیٹی کو اس طرح روتا دیکھ کر پریشان تھے۔ حمدان نے بے بسی کی حالت میں گارڈز کی طرف دیکھا اور ایک دھیما سا اشارہ کیا۔

باس کا اشارہ پاتے ہی سارے گارڈز، جو عام طور پر بڑے سخت اور سنجیدہ نظر آتے تھے، اپنے ہاتھوں میں کھلونے اور چاکلیٹس لیے منہا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ وہ معصوم بچی کو بہلانے کے لیے کبھی کوئی گڑیا آگے کرتے تو کبھی چاکلیٹ اس کے سامنے لا کر پیار سے پکارتے، "منہا بی بی، یہ دیکھیں آپ کا پسندیدہ کھلونا! یہ دیکھیں چاکلیٹ!"

"نہیں سسسس!" منہا اب پوری قوت سے چیخی تھی۔ اس نے غصے سے اپنا ہاتھ مار کر کھلونے ایک طرف کر دیے۔ اسے اس وقت دنیا کی کوئی چاکلیٹ، کوئی کھلونا نہیں چاہیے تھا، اسے تو بس اپنی ماما چاہیے تھی۔ گارڈز بیچارے گھبرا کر پیچھے ہو گئے۔ حمدان نے پریشانی سے اپنا ہاتھ پیشانی پر پھیرا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب اس ضدی بچی کو کیسے سنبھالا جائے؟

ٹھیک اسی وقت، اسی علاقے کی گلیوں میں ایک بالکل مختلف ہی دنیا آباد تھی۔ وہاں دانیا نام کی ایک چُلبلی، ضدی اور بے حد زندہ دل لڑکی رہتی تھی۔ دانیا اپنے پورے محلے میں اپنی شرارتوں کی وجہ سے مشہور تھی۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتی تھی، اور سچ تو یہ تھا کہ اس کی انوکھی حرکتوں کی وجہ سے اس کی دادی ہر وقت تنگ رہتی تھیں۔ دادی دن بھر اس کے پیچھے بھاگتی رہتی تھیں اور پکارتی تھیں، "دانیا! باز آ جا لڑکی! کسی دن میرا بلڈ پریشر تیز کروا کے ہی دم لے گی تو!"

مگر دادی جتنا اس سے تنگ تھیں، دل ہی دل میں وہ اس سے اتنی ہی محبت بھی کرتی تھیں۔ دانیا ان کی زندگی کا واحد سہارا اور ان کے گھر کی رونق تھی۔ دانیا ابھی ابھی اپنی دادو کو کسی بات پر خوب تنگ کر کے گھر سے باہر بھاگی تھی اور دادی پیچھے کھڑی ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ دانیا ہنستی ہوئی، مزے سے سڑک پر بھاگتی چلی جا رہی تھی اور ساتھ ہی اپنے موڈ میں عجیب عجیب آوازیں نکال رہی تھا، جیسے کوئی کارٹون کیریکٹر ہو۔ وہ اپنی ہی دنیا میں مست تھی اور اسے آس پاس کے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔

وہ ایسے ہی اچھلتی کودتی، ہنستی مسکراتی چلی جا رہی تھا کہ اچانک اس کے قدم رک گئے۔ جب وہ ایسے ہی چلتے ہوئے سڑک کے اس موڑ پر پہنچی، تو اس کی نظر منہا پر پڑی جو زمین پر بیٹھی رو رہی تھی، اور اس کے ارد گرد گارڈز اور اس کے بابا پریشان کھڑے تھے۔

دانیا نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اس کے ذہن میں ایک شرارت سوجھی۔ وہ منہا کے بالکل سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ منہا کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، دانیا نے فوراً اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے، اپنی زبان باہر نکالی اور اپنی آنکھیں بڑی بڑی کر کے ایک ایسی عجیب اور مضحکہ خیز حرکت کی کہ دیکھنے والا اپنی ہنسی نہ روک پائے۔ دانیا نے ایک کارٹون جیسی آواز نکالی اور منہا کو چڑانے لگی۔

منہا، جو ابھی تک رو رو کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھی، دانیا کی اس اچانک اور مضحکہ خیز حرکت کو دیکھ کر ایک سیکنڈ کے لیے بالکل خاموش ہو گئی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت چمکی اور پھر اگلے ہی لمحے، وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی! اس کی ہنسی اتنی معصوم اور پیاری تھی کہ وہاں موجود گارڈز کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔

حمدان، جو اب تک سر پکڑے بیٹھا تھا، یہ منظر دیکھ کر شدید حیرانی میں ڈوب گیا۔ اس کی آنکھوں کو یقین نہیں آیا تھا کہ جو لڑکی ابھی چند سیکنڈ پہلے رو رو کر سب کا دماغ کھا رہی تھا اور کسی کے قابو میں نہیں آ رہی تھی، وہ اب اس اجنبی لڑکی کی ایک چھوٹی سی حرکت پر کیسے کھلکھلا کر ہنس دی تھی؟ حمدان نے اپنی نظریں اٹھا کر دانیا کو دیکھا، جو اب بھی مسکرا رہی تھی۔

دانیا نے جب دیکھا کہ اس کی اس حرکت پر وہ روتی ہوئی بچی کھلکھلا کر ہنس پڑی ہے، تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے منہا کے مزید پاس چلی گئی۔

دانیا کو منہا کے اتنے قریب آتا دیکھ کر حمدان کے الرٹ گارڈز فوری طور پر آگے بڑھنے والے تھے تاکہ دانیا کو روک سکیں، کیونکہ وہ اپنے باس کی سیکیورٹی کے معاملے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے۔

مگر حمدان نے، جو ابھی تک اس جادوئی تبدیلی پر حیران تھا، اپنے ہاتھ کے اشارے سے گارڈز کو وہیں روک دیا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ لڑکی اب آگے کیا کرتی ہے۔

دانیا گارڈز کی حرکت سے بالکل بے پرواہ ہو کر نیچے جھکی اور منہا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر اب بھی وہی دلفریب اور سچی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ بہت پیار سے آگے بڑھایا اور چنچل انداز میں بولی: "ہیلو چھوٹی ڈون! آپ کا نام کیا ہے؟"

منہا نے، جو اب تک دانیا کے سحر میں کھو چکی تھی، فوراً سے اپنا چھوٹا سا ہاتھ دانیا کے ہاتھ میں دے دیا اور معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی: "منہا ہے میرا نام۔"

منہا کے چہرے پر اب انسوؤں کے نشان تو تھے، مگر وہ دانیا کو دیکھ کر ایسے مسکرا رہی تھی جیسے اسے اس کی پسندیدہ ماما مل گئی ہو۔ حمدان دور کھڑا خاموشی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا، جس نے پل بھر میں اس کی ضدی بیٹی کو ہنسنا سکھا دیا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ 'چُلبلی دانیا' اب نہ صرف منہا کی، بلکہ خود اس کی زندگی کا بھی سب سے اہم حصہ بننے جا رہی تھی۔ کہانی کا اصل رخ تو اب بدلنے والا تھا، کیونکہ ضدی منہا کو شاید اپنی

نئی ماما کا چہرہ نظر آ گیا تھا!

MN
Written by
@maha11 · 1 articles · Joined Oct 2026

Mera naam Maha hai. Mujhe Urdu mein kahaniyan aur novels likhne ka bohat shauq hai

Comments 0

Sign in to join the conversation.

No comments yet. Be the first to say something.

Keep reading

The War of Independence 1857 And the Role of Sir Sayed Ahmed KhanLiterature & Movements5.4kviews7paid views

The War of Independence 1857 And the Role of Sir Sayed Ahmed Khan

The War of Independence 1857, also known as the Sepoy Mutiny, was a dark period in India's history when the British took over and established British India. This article explores...

HTHajra Tareen
  • 5.4kviews
  • 7paid views
  • 10 May 2023published
Quaid e azam: the founder of Pakistan and the leader of All-india Muslim leagueLiterature & Movements5.3kviews

Quaid e azam: the founder of Pakistan and the leader of All-india Muslim league

Its all about pakistan founder.

AAnus
  • 5.3kviews
  • 1comments
  • 4 Oct 2024published
Savior Of Mankind Hazrat Muhammad (pbuh)Lifestyle5.4kviews9paid views

Savior Of Mankind Hazrat Muhammad (pbuh)

Hazrat Muhammad (PBUH), the last Prophet of Allah, is the savior of mankind. He was born in the city of Mecca in the year 570 AD, and his life's journey...

HTHajra Tareen
  • 5.4kviews
  • 9paid views
  • 9 May 2023published
Proverbs and their significance in any cultureLiterature & Movements2.4kviews10paid views

Proverbs and their significance in any culture

Proverbs are a form of traditional wisdom that has been passed down from generation to generation in many cultures around the world. These short and concise sayings are often based...

HTHajra Tareen
  • 2.4kviews
  • 10paid views
  • 11 May 2023published
Why Dirilis Ertugrul Is So Popular All Around The World?Literature & Movements2.7kviews11paid views

Why Dirilis Ertugrul Is So Popular All Around The World?

Due to the lockdown, several online series and television shows attracted a large following. Dirilis Ertugrul, for example, is a well-known figure. Mehmet Bozdag has produced a fantastic online series...

HTHajra Tareen
  • 2.7kviews
  • 11paid views
  • 12 Oct 2021published
Thematic Exploration of Lewanay Pashtun Philosopher Ghani Khan’s (ريډي ګل) (Poppy Flower)Literature & Movements1.7kviews2paid views

Thematic Exploration of Lewanay Pashtun Philosopher Ghani Khan’s (ريډي ګل) (Poppy Flower)

Ghani Khan, the Lewanay (mad) Pashtun philosopher-poet, uses his poetry collection ريډي ګل (Poppy Flower) to traverse a rich spectrum of philosophical, social, and mystical themes. This article offers a...

ZKZahid khan
  • 1.7kviews
  • 2paid views
  • 12 Jun 2025published