تحریر: سیدہ مناحل راحیل
ڈپریشن کیا ہے؟
اسلام نے ڈپریشن کو کبھی بھی گناہ نہیں کہا، بلکہ اسے دل کی تھکن اور آزمائش کہا ہے۔ قرآن میں خود انبیاء کے غم کا ذکر ہے۔
قرآن سے دلائل:
حضرت یعقوب علیہ السلام کا غم:
حضرت یوسف کی جدائی میں وہ اتنا روئے کہ قرآن کہتا ہے اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں (سورہ یوسف: 84) اس سے پتا چلتا ہے کہ غمگین ہونا انسان ہونے کی نشانی ہے۔
اللہ کا وعدہ:
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا (سورہ بقرہ: 286) یعنی جو تکلیف تمہیں ملی ہے، اللہ جانتا ہے تم اسے سہہ سکتے ہو۔
نا امیدی سے منع:
اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید کافر لوگ ہوتے ہیں (سورہ یوسف: 87)اسلام میں مایوسی سب سے بڑا گناہ جیسا سمجھا گیا ہے۔
سنت اور حدیث سے علاج:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
خود جب پریشان ہوتے تو فرماتے: اے بلال، نماز قائم کرو اور ہمیں سکون پہنچاؤ۔آپ نے ہمیں یہ دعا سکھائی جو آج سائنس بھی مانتی ہے کہ بے چینی کم کرتی ہے: اللّٰہم انی اعوذ بک من الھم والحزن، والعجز والکسل - ترجمہ: اے اللہ! میں غم اور فکر سے، عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اسلام کا پانچ قدم کا روحانی علاج:
(1) وضو اور نماز
ٹھنڈے پانی سے وضو سے نروس سسٹم پر سکون ہوتا ہے۔ سجدہ سب سے زیادہ خون دماغ تک لے جاتا ہے جس سے سکون ملتا ہے۔
قرآن سننا اور پڑھنا:
خاص طور پر سورۃ الضحیٰ اور سورۃ الشرح یہ دونوں سورتیں نبی کریم پر اس وقت نازل ہوئیںجب آپ بہت غمگین تھے اللہ نے فرمایا "تمھارے رب نے نہ تمھیں چھوڑا ہے نہ ناراض ہوا ہے۔"
استغفار اور ذکر:
استغفر اللہ" کو 100 بار پڑھنا، نبی کریم نے فرمایا جو استغفار کو لازم پکڑے اللہ اس کی ہر تنگی سے راستہ نکالتا ہے
صدقہ اور دوسروں کی مدد:
صدقہ اور دوسروں کی مدد: جب ہم کسی اور کی مدد کرتے ہیں تو ہمارا اپنا ڈوپامین بڑھتا ہے، اسلام نے اس لیے صدقہ کو غم کا علاج بتایا۔
دعا اور توکل کے بعد کوشش:
صرف بیٹھ کر دعا نہیں بلکہ دعا کے ساتھ علاج اور کوشش کرنا بھی سنت ہے۔
اسلام کہتا ہے: غم کو چھپا کر مت رکھو، اللہ سے کہو، رو کر مانگو یہ کمزوری نہیں یہ عبادت ہے۔
سائنس کہتی ہے ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جیسے بخار یا شوگر ۔
دماغ میں کیا ہوتا ہے؟
ہمارے دماغ میں تین کیمیکل ہوتے ہیں جو خوشی کو کنٹرول کرتے ہیں۔
سیروٹونین:
سکون اور خوشی کا ہارمون، انسان کی کمی سے انسان ہر وقت اداس اور تھکا ہوا رہتا ہے۔
ڈوپامین:
موٹیویشن کا ہارمون: جب ہم بہت زیادہ سوچتے ہیں تو یہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس سے نیند اڑ جاتی ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس پھولتی ہے جسے ہم اینگزائٹی کہتے ہیں۔

سائنس کے مطابق چار بڑی وجوہات:
نیند کا سائیکل خراب ہونا:
رات دیر تک جاگنے سے دماغ خود کو ریپیئر نہیں کر پاتا۔
سوشل میڈیا اور موازنہ:
ہر وقت دوسروں کی اچھی زندگی دیکھ کر لگتا ہے کہ ہماری زندگی پیچھے رہ گئی ہے ۔
تنہائی:
انسان جب اپنی بات کسی سے نہیں کہتا تو اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔
منفی سوچوں کا چکر:
ایک برا خیال بار بار آتا ہے تو دماغ اسی کو سچ ماننے لگتا ہے، جس سے پریشانی اور بڑھ جاتی ہے۔
منفی ماحول اور خاندان سے دوری:
جب انسان اپنے خاندان سے دور ہو جاتا ہے اور ہر وقت منفی باتیں سنتا ہے تو اس کا دل اور دماغ دونوں تھک جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔
سائنس کا بتایا ہوا نتیجہ: یہ ہوتی ہے ڈپریشن کی اصل وجہ، اور اس کا علاج صرف دوائی نہیں بلکہ اچھا ماحول، اچھی بات اور اپنوں کا ساتھ ہے ۔
سائنس کا بتایا ہوا 5 قدم کا علاج؟
یہ کوئی وظیفہ نہیں، یہ ڈاکٹروں اور ماہرینِ نفسیات کی تحقیق ہے۔
سانس کی مشق Rule 8-7-4:
جب گھبراہٹ ہو تو 4 سیکنڈ ناک سے سانس لو، 7 سیکنڈ روکو اور 8 سیکنڈ منہ سے باہر نکالو۔ اس سے دل کی دھڑکن نارمل ہو جاتی ہے۔
سورج کی روشنی اور واک:
صبح میں دھوپ میں واک کرنے سے دماغ قدرتی طور پر وٹامن D اور سیروٹونن بناتا ہے۔ ایسی ہی دوائیں بھی کام کرتی ہیں۔
نیند پائیجین:
روز ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے موبائل بند کر دینا۔
جرنلنگ لکھنا:
جو بات کسی کو نہیں بتا سکتے اسے کاغذ پر لکھ دو۔ ریسرچ کہتی ہے لکھنے سے دماغ کا 50% بوجھ کم ہو جاتا ہے۔
منفی سوچ کو چیلنج کرنا (CBT):
جب خیال آئے کہ میں ناکام ہوں تو خود سے پوچھو، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟ کیا میں ہمیشہ ناکام ہی ہوں؟ ریسرچ کہتی ہے 80% منفی سوچیں ہماری ہوتی ہیں۔
اگر سوچیں زیادہ تنگ کریں تو ڈاکٹر کے پاس جانا شرم کی بات نہیں ہے، یہ بھی علاج ہی ہے.
کب ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے؟
اگر دو ہفتے سے زیادہ رونے کو دل کرے، بغیر وجہ کے خود کو نقصان پہنچانے کا خیال آئے تو یہ عام بات نہیں، عام اداسی نہیں۔
اس کے لیے ماہرِ نفسیات سے بات کرنا واجب ہے۔ اسلام میں بھی علاج سنت ہے۔
لوگوں سے ایک گزارش:
اگر تمہارے آس پاس کوئی ڈپریشن میں ہے تو اسے یہ مت کہو کہ تم ڈرامہ کر رہے ہو۔ اسے یہ مت کہو کہ تمہارا ایمان کمزور ہے.
اسے بس یہ کہو، میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اکیلے نہیں ہو، تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔
کبھی کبھی ایک پیار بھرا جملہ کسی کی زندگی بچا لیتا ہے۔
آخری پیغام:
ڈپریشن کمزوری نہیں، بیماری ہے۔ جس طرح بخار میں دوائی لیتے ہیں، اسی طرح دل کی بیماری میں بھی علاج کروانا شرم نہیں۔
خود کو اکیلا مت سمجھو، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور اپنوں سے بات کرو۔ زندگی ایک بار ملتی ہے، اس کو منفی سوچوں میں ضائع مت کرو۔
تم اکیلے نہیں ہو تمہارا علاج ممکن ہے ۔
االلہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔










Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.