1. تمہید
والدین کائنات کا وہ سب سے خوبصورت اور انمول تحفہ ہیں جن کا دنیا میں کوئی نعم البدل یا متبادل موجود نہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے جوان اور کامیاب ہونے تک، اپنی ذات کو مکمل طور پر فنا کر دیتی ہیں۔ وہ بچپن میں ہماری ہر کمزوری کا سہارا بنتے ہیں، اپنی بھوک پیاس بھول کر ہمیں کھلاتے پلاتے ہیں اور ہماری ایک چھوٹی سی مسکراہٹ کے لیے اپنی زندگی کی تمام آسائشیں اور خواہشات قربان کر دیتے ہیں۔
وقت کا پہیہ مسلسل گھومتا رہتا ہے، اور جو والدین کبھی ہماری انگلی پکڑ کر ہمیں چلنا سکھاتے تھے، ایک دن وہ خود بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ بڑھاپا انسانی زندگی کا وہ نازک ترین دور ہے جہاں انسان جسمانی, ذہنی اور جذباتی طور پر دوبارہ ایک معصوم بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ وہ اسی توجہ، پیار، نرمی اور دیکھ بھال کا محتاج ہو جاتا ہے جو اس نے کبھی اپنے بچوں کو ان کے بچپن میں دی تھی۔ اسلام نے والدین کے ادب اور ان کی خدمت کو محض ایک روایتی یا اخلاقی فرض نہیں مانا، بلکہ اسے ایمان کا بنیادی حصہ اور اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بڑا حکم قرار دیا ہے۔
2. قرآنی احکامات
قرآن مجید کا اسلوبِ بیان یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں جہاں اپنی توحید اور بندگی کا ذکر فرمایا ہے، اس کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حقوق اللہ کے بعد کائنات میں سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
"اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔" (آیت: 23)
اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک سچا مومن یا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے والدین کا فرمانبردار اور خدمت گزار نہ ہو۔ والدین کی اطاعت کو الٰہی احکامات کے ساتھ جوڑنا اس رشتے کی عظمت اور تقدس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
3. بڑھاپے کا مرحلہ
بڑھاپے میں انسان کا جسمانی نظام کمزور ہو جاتا ہے، قوتِ مدافعت جواب دے جاتی ہے اور بسا اوقات یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں بوڑھے والدین کے مزاج میں چڑچڑاپن، ایک ہی بات کو بار بار دہرانا یا بچوں جیسی ضد پیدا ہو جانا ایک فطری امر ہے۔ قرآنِ کریم نے اس مخصوص اور نازک مرحلے کے لیے اولاد کو نہایت سخت اور واضح ہدایات دی ہیں:
"اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اف' بھی نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔"
یہاں لفظ "اف" کی ممانعت گہری معنویت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب والدین بوڑھے ہو کر ضعیف ہو جائیں، تو ان کی کسی بھی بات پر دل میں تنگی محسوس کرنا، چہرے پر شکن لانا، بیزاری یا ناگواری کا ادنیٰ ترین اظہار کرنا بھی گناہ ہے۔ اولاد پر لازم ہے کہ وہ ان کی ہر بات کو خندہ پیشانی، صبر، اور کمالِ محبت کے ساتھ برداشت کرے۔

4. احادیثِ نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور احادیثِ مبارکہ والدین کی خدمت کی فضیلت اور اہمیت سے بھری پڑی ہیں۔ آپ ﷺ نے متعدد مقامات پر والدین کی خدمت کو نفلی عبادتوں اور یہاں تک کہ میدانِ جنگ میں جانے (جہاد) پر بھی فضیلت دی ہے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اللہ کی رضا اور آخرت کے ثواب کے لیے جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں لیکن میری ماں میرے پیچھے رو رہی ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "جی ہاں۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "جاؤ ان کے پاس رہو اور ان کی خدمت کرو، کیونکہ جنت ان کے قدموں کے پاس ہے۔"
ایک اور مشہور اور لرزہ برانداز حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص ذلیل و خوار ہوا، وہ شخص ذلیل و خوار ہوا، وہ شخص ذلیل و خوار ہوا!" صحابہ کرام نے بڑی بے چینی سے پوچھا: "یا رسول اللہ! کون شخص ذلیل ہوا؟" آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت حاصل نہ کر سکا۔" یہ حدیث بتاتی ہے کہ بوڑھے والدین اولاد کے لیے جنت کا وہ آسان ترین راستہ ہیں جسے ضائع کر دینے والا شخص دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔
5. ماں کا مقام
اگرچہ والدین دونوں ہی یکساں طور پر قابلِ احترام اور لائقِ تعظیم ہیں، لیکن اسلام نے صنفِ نازک یعنی ماں کی ان لاتعداد قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے مرتبے کو باپ پر فوقیت دی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جو نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، ہر لمحہ ایک نئی تکلیف برداشت کرتی ہے، اپنی جان داؤ پر لگا کر اسے جنم دیتی ہے، اور پھر برسوں اپنی نیندیں حرام کر کے اس کی پرورش کرتی ہے۔
اسی لیے ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا: "یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہاری ماں"۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا: "پھر کون؟" آپ ﷺ نے پھر فرمایا: "تمہاری ماں"۔ انہوں نے تیسری بار پوچھا: "پھر کون؟" آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا: "تمہاری ماں"۔ جب انہوں نے چوتھی بار پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا باپ"۔ اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ماں کا حقِ خدمت اور اکرام باپ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، کیونکہ اس نے وہ تین بنیادی تکلیفیں (حمل، وضع حمل، اور دودھ پلانا) اکیلے برداشت کی ہیں جن میں باپ شریک نہیں تھا۔

6. باپ کی عظمت
جہاں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے، وہیں باپ کو اس جنت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ فرمانِ نبوی ﷺ ہے: "باپ جنت کا بیچ کا (وسطی) دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کو ضائع کر دو یا اس کی حفاظت کرو۔"
باپ ایک ایسا مضبوط سایہ دار درخت ہے جو خود تو زندگی بھر زمانے کی تپتی دھوپ، معاشی مشکلات، اور طوفانوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اپنی اولاد کو ہمیشہ سکون، تحفظ اور چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ وہ دن رات پسینہ بہا کر رزقِ حلال کماتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ جب وہ باپ بڑھاپے کے باعث کمانے کے قابل نہیں رہتا اور اس کے ہاتھ پاؤں لرزنے لگتے ہیں، تو اولاد کا یہ اولین اخلاقی اور شرعی فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی تمام مالی، جسمانی اور جذباتی ضروریات کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ پورا کرے۔
7. دورِ حاضر کا المیہ
افسوس کا مقام ہے کہ جیسے جیسے دنیا مادی ترقی کی طرف گامزن ہے، ویسے ویسے ہمارے معاشرے میں اخلاقی اقدار زوال پذیر ہو رہی ہیں۔ مغربی ثقافت کے اندھے اثرات کے باعث اب مسلم معاشروں میں بھی بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ "اولڈ ایج ہومز" یا دارالامان (عجائب گھر برائے ضعیفان) کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
بہت سے بدقسمت بچے اپنی مصروف زندگی، ملازمت، یا اپنی بیوی بچوں کی آسائشوں کے چکر میں بوڑھے والدین کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں یا انہیں کسی نرسنگ ہوم میں داخل کرا دیتے ہیں۔ اسلام اس مادہ پرستانہ سوچ کی سخت مذمت کرتا ہے۔ والدین کوئی بیکار یا فالتو چیز نہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں الگ کر دیا جائے، بلکہ وہ تو گھر کی برکت، رحمت اور دعاؤں کا سب سے بڑا منبع ہیں۔
8. خدمت کے عملی طریقے
والدین کی خدمت صرف زبانی جمع خرچ یا سوشل میڈیا پر پوسٹس لگانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عملی زندگی میں اس کا ٹھوس ثبوت دینا ضروری ہے۔ اس کے چند اہم ترین پہلو یہ ہیں:
• طبی دیکھ بھال: بڑھاپے میں انسان طرح طرح کی بیماریوں (جیسے شوگر، بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد وغیرہ) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کے باقاعدہ میڈیکل چیک اپ، ادویات اور متوازن خوراک کا خود خیال رکھے۔
• وقت اور توجہ: بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ تنہائی کا احساس تڑپاتا ہے۔ اولاد کو چاہیے کہ وہ اپنی مصروف ترین زندگی سے روزانہ کچھ وقت نکال کر والدین کے پاس بیٹھے، ان کا حال احوال پوچھے، ان کی پرانی باتیں اور کہانیاں توجہ سے سنے۔ ان کے پاس بیٹھنا ان کے لیے کسی دوا سے کم نہیں ہوتا۔
• مالی خود مختاری: والدین کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ آپ کے محتاج ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کچھ رقم (پاکٹ منی) ہمیشہ رکھیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ کر سکیں اور ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
• عزت اور مشورت: ان کے کھانے پینے، پہننے اور اٹھنے بیٹھنے کے آرام کا خاص خیال رکھیں اور گھر کے اہم فیصلوں میں ان سے مشورہ ضرور لیں تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ وہ آج بھی گھر کے سربراہ ہیں۔

9. گفتگو کے آداب
قرآن پاک نے والدین سے بات کرنے کا ایک خاص سلیقہ سکھایا ہے اور وہ ہے "قولاً کریماً" یعنی نہایت ہی معزز، نرم اور دل کو لبھانے والے لہجے میں بات کرنا۔
• والدین کے سامنے کبھی بھی اپنی آواز کو اونچا نہ کریں۔
• ان کی کسی بات سے اختلاف ہو تو رعب جھاڑنے یا حاکمانہ انداز اپنانے کے بجائے عاجزی سے اپنی بات رکھ۔۔
• یاد رکھیں کہ آپ دنیا کے کتنے ہی بڑے افسر، عالم یا امیر ترین شخص کیوں نہ بن جائیں، اپنے والدین کے سامنے آپ ہمیشہ وہی چھوٹے بچے ہیں، لہذا ان کے سامنے اپنی گردن کو ہمیشہ جھکا کر رکھیں۔
10. رشتہ داروں کا اکرام
اسلام کی خوبصورتی اور اس کی تعلیمات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف والدین کی زندگی میں ان کی خدمت کا حکم دیتا ہے، بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ان سے جڑے رشتوں کا احترام سکھاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک برقرار رکھے۔" ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اپنی رضاعی ماں (حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا) اور اپنے والدین کے پرانے دوستوں کے آنے پر اپنی مبارک چادر ان کے بیٹھنے کے لیے بچھا دیا کرتے تھے۔ یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کے جانے کے بعد ان کے دوستوں کی عزت کرنا دراصل خود والدین کی روح کو خوشی اور سکون پہنچانا ہے۔
11. نافرمانی کے نقصانات
شریعتِ اسلامی میں والدین کی نافرمانی (عقوق الوالدین) کو شرک کے بعد سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق، اللہ تبارک و تعالیٰ تمام گناہوں کی سزا چاہے تو اپنی حکمت سے قیامت کے دن تک مؤخر کر سکتا ہے، لیکن والدین کی نافرمانی، ان کا دل دکھانے اور ان پر ظلم کرنے کی سزا اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے سے پہلے اسی دنیا میں لازمی چکواتا ہے۔
جو اولاد اپنے بوڑھے والدین کو سسکنے اور تڑپنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے، وہ کبھی دنیا میں حقیقی خوشی، ذہنی سکون اور برکت حاصل نہیں کر سکتی۔ مکافاتِ عمل کا یہ اصول اٹل ہے کہ آج آپ اپنے والدین کے ساتھ جو سلوک کریں گے، کل آپ کی اپنی اولاد آپ کے ساتھ بالکل وہی سلوک دہرائے گی۔
12. وفات کے بعد کے حقوق
جب والدین اس دنیاِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں، تب بھی ان کا اولاد پر حق ختم نہیں ہوتا۔ ان کے جانے کے بعد اولاد کے پاس ان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید میں انسانوں کو یہ خوبصورت دعا سکھائی ہے:
"رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا"
(اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے (محبت اور شفقت سے) پالا تھا)
اولاد جب بھی نماز کے بعد یا کسی بھی وقت اپنے مرحوم والدین کے لیے بخشش، رحمت اور بلندیِ درجات کی دعا کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے قبر میں ان کے مقامات کو بلند فرما دیتا ہے اور فرشتوں کے ذریعے انہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمہاری اولاد کی طرف سے تمہارے لیے بھیجا گیا تحفہ ہے۔
13. حاصلِ کلا
مختصر یہ کہ والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا وہ سنہری موقع ہیں جسے پا کر کوئی بھی انسان اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو ہمیشہ کے لیے سنوار سکتا ہے۔ بڑھاپے میں ان کی خدمت کرنا ان پر کوئی احسان یا مہربانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس عظیم قرض کا ایک انتہائی چھوٹا اور ناچیز سا حصہ اتارنے کی کوشش ہے جو انہوں نے ہمارے بچپن میں اپنی جان پگھلا کر ہم پر چڑھایا تھا۔
اگر ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی کامیابی، کاروبار اور رزق میں برکت، گناہوں سے معافی اور مرتے وقت ایمان کی سلامتی چاہتے ہیں، تو ہمیں ہر حال میں اپنے والدین کو راضی کرنا ہوگا۔ ان کے چہرے پر آنے والی ایک مسکراہٹ اور ان کے دل سے نکلنے والی ایک سچی دعا ہماری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے اور ہمارے لیے جنت کا پروانہ بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کا سچا فرمانبردار اور بوڑھے والدین کا بہترین خادم بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)










Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.