بچوں کو موبائل کی عادت سے بچانے کے 6 آسان طریقے
آج کل ہر گھر کا یہی مسئلہ بن گیا ہے۔ بچہ روتا ہے تو ماں موبائل دے دیتی ہے، کھانا نہیں کھاتا تو موبائل دے دیا جاتا ہے۔ شروع میں تو بچہ خاموش ہو جاتا ہے لیکن یہ چھوٹی سی عادت آہستہ آہستہ بچے کی آنکھوں، نیند اور ذہن پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔
میں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کیا ہے کہ جب سے میرے چھوٹے بھائی کو موبائل کی عادت لگی ہے اس کی پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ اس لیے میں نے کچھ طریقے آزمائے جو بہت کارآمد ثابت ہوئے۔

1۔ وقت مقرر کریں
بچے کو پورا دن موبائل دینے کے بجائے ایک وقت مقرر کر دیں۔ مثلاً صرف شام میں آدھا گھنٹہ۔ بچے کو پہلے بتا دیں کہ اس وقت کے علاوہ موبائل نہیں ملے گا۔
2۔ متبادل مصروفیت دیں
بچہ فارغ ہوتا ہے تو موبائل مانگتا ہے۔ اسے رنگوں والی کتابیں، کہانیوں کی کتابیں یا لڈو کیرم جیسے کھیل لا کر دیں۔ اس سے اس کا دھیان بٹ جائے گا۔

3۔ خود عمل کریں
اگر والدین خود ہر وقت موبائل پر رہیں گے تو بچہ بھی وہی کرے گا۔ بچے کے سامنے موبائل کا استعمال کم کریں۔
4۔ باہر کھیلنے دیں
بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ باہر گلی یا پارک میں کھیلنے دیں۔ اس سے ان کی جسمانی صحت بھی اچھی ہوگی اور موبائل کی طلب کم ہوگی۔

5۔ پیار سے سمجھائیں
موبائل چھیننے یا ڈانٹنے سے بچہ ضد کرتا ہے۔ اسے پیار سے سمجھائیں کہ زیادہ موبائل دیکھنے سے آنکھوں میں درد ہوتا ہے اور نیند خراب ہوتی ہے۔
6۔ سونے سے پہلے پابندی
سونے سے ایک گھنٹہ پہلے گھر میں موبائل بند کرنے کا اصول بنا لیں۔ اس وقت بچے کو کوئی اچھی کہانی سنائیں۔
یاد رکھیں ایک دن میں عادت ختم نہیں ہوگی۔ اگر آپ ان طریقوں پر 15 دن عمل کریں گے تو واضح فرق نظر آئے گا۔
7۔ انعامی نظام شروع کریں
بچے کو موبائل سے روکنے کا سب سے بہترین طریقہ انعامی نظام ہے۔ بچے کو ڈانٹنے سے وہ ضد کرتا ہے لیکن انعام کا لالچ دینے سے وہ خوشی خوشی آپ کی بات مانتا ہے۔ آپ ایک چارٹ بنائیں۔ اس چارٹ پر ہفتے کے 7 دنوں کے نام لکھیں۔ جب بچہ ایک پورا دن بغیر موبائل کے گزارے تو اس دن کے سامنے ایک سٹار بنا دیں۔
میرے گھر میں ہم نے یہی کیا تھا۔ جب عثمان 5 سٹار جمع کر لیتا تھا تو ہم اس کو اس کی پسند کی کوئی چیز لا کر دیتے تھے جیسے چاکلیٹ، نئی کہانی کی کتاب یا پارک کی سیر۔ اس سے بچے کے اندر ایک مقابلے کا جذبہ آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر میں آج موبائل نہیں دیکھوں گا تو مجھے سٹار ملے گا۔ یہ ایک نفسیاتی طریقہ ہے جو بچوں پر بہت جلدی اثر کرتا ہے۔ آپ بھی اس کو ضرور آزمائیں۔
8۔ بچے کے موبائل میں والدین کا کنٹرول لگائیں
اگر آپ کا بچہ بالکل ہی موبائل نہیں چھوڑ رہا اور آپ کو مجبوری میں دینا ہی پڑتا ہے تو کم از کم اس کے موبائل میں اچھی چیزیں رکھیں۔ موبائل میں سے تمام فضول گیمز اور ٹک ٹاک جیسی ایپس ڈیلیٹ کر دیں۔ صرف تعلیمی ایپس رکھیں جیسے حروف تہجی والی، نظمیں والی یا اسلامی کہانیوں والی ایپس۔
اس کے علاوہ یوٹیوب پر Kids ورژن لگا دیں اور اس میں ٹائمر لگا دیں کہ 30 منٹ کے بعد یوٹیوب خود بند ہو جائے۔ آج کل ہر موبائل میں Digital Wellbeing کا آپشن ہوتا ہے، وہاں سے آپ بچے کے موبائل کا ٹائم لاک کر سکتے ہیں۔ اس سے بچہ اگر زیادہ دیر موبائل دیکھے گا بھی تو صرف اچھی چیزیں دیکھے گا، گندا مواد اس تک نہیں پہنچے گا۔
9۔ خاندان کا وقت مقرر کریں
آج کل ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ سب اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ سے بچہ بھی اکیلا محسوس کرتا ہے اور موبائل کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ گھر میں روزانہ ایک گھنٹہ فیملی ٹائم مقرر کریں۔
اس ٹائم میں گھر کا کوئی بھی فرد موبائل استعمال نہیں کرے گا۔ سب ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کریں گے، ایک دوسرے کے دن کے بارے میں پوچھیں گے، کوئی اچھی کہانی سنائیں گے یا کوئی کھیل کھیلیں گے۔ جب بچہ دیکھے گا کہ امی ابو اس کو وقت دے رہے ہیں، اس سے پیار کر رہے ہیں تو اس کو موبائل کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ بچے کو اصل میں آپ کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے، موبائل کی نہیں۔
10۔ صبر اور مستقل مزاجی سے کام لیں
آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے جلد بازی نہیں کرنی۔ بہت سے والدین 2 دن کوشش کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ بچہ باز نہیں آ رہا۔ یاد رکھیں کہ یہ عادت ایک دن میں نہیں لگی، اس لیے ایک دن میں ختم بھی نہیں ہوگی۔ یہ لت ایک نشے کی طرح ہے۔
اگر آپ نے آج بچے کو موبائل سے روکا اور کل پھر دے دیا تو بچہ سمجھ جائے گا کہ تھوڑی سی ضد سے موبائل مل جاتا ہے۔ اس لیے جو بھی اصول بنائیں اس پر سختی سے عمل کریں۔ گھر کے تمام افراد ایک ہی بات پر متفق ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ ماں منع کرے اور باپ دے دے۔ اگر آپ 15 سے 20 دن تک مسلسل ان تمام طریقوں پر عمل کرتے ہیں تو یقین کریں آپ کا بچہ موبائل کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں واپس آ جائے گا۔ وہ زیادہ خوش، صحت مند اور ذہین بن جائے گا۔ بچوں کا بچپن بہت قیمتی ہے، اس کو موبائل کی سکرین پر ضائع نہ ہونے دیں۔
آخر میں والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں پر خاص توجہ دیں۔ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا۔ آج اگر آپ تھوڑی سی سختی کریں گے تو کل آپ کا بچہ آپ کو دعائیں دے گا۔ موبائل کی جگہ کتاب، محبت اور توجہ دیں۔ بچوں کا بچپن بہت قیمتی ہے، اس کو سکرین پر ضائع نہ ہونے دیں۔










Comments 0
Sign in to join the conversation.
No comments yet. Be the first to say something.